مولانہ خادم حسین رضوی اور انقلاب

مولانہ خادم رضوی کو ممتاز قادری کی پھانسی سے پہلے شاید کم ہی لوگ جانتے ہونگے، ویسے مولانہ صاحب اپنی شعلہ بیان تقریروں کی وجہ سے صرف سنی بریلوی مسلک میں اپنی شہرت رکھتے ہیں۔ مولانہ صاحب چاہتے تھے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کسی نا کسی طرح روک وائی جاسکے ۔ لیکن نواز شریف حکومت اور جنرل راحیل شریف کا شاید متفقہ فیصلہ تھا کہ پھانسی دی جائے، اور اسکے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گورنر سلیمان تاسیر کیوکہ پاکستان پیپلز پارٹی کےسرگرم روکن تھےاسلئے یپلز پارٹی اندرونی طور پر دباو ڈالتی رہی ہوگئ ۔ اگر دیکھا جائے تو نواز شریف کے لیے یہ انتہائی مشکل فیصلہ تھا لیکن نواز شریف کر گزرا۔ ایک طرف تو پیپلز پارٹی دوسری طرف پاکستان کا لبرلز طبقہ اور بیرونی طاقتیں بھی اس فیصلہ کو پسند کرنے لگی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ مذہبی طبقہ شدید غم و غصہ کا شکار ہوگیا۔ یہی چند وجوہات تھی جن کی وجہ سے تحریک لبیک نے جنم لیا۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد نون لیگ کی سب سے بڑی غلطی حلف نامہ میں تبدیلی اور قادیانیوں کے لیے راہ ہمور کرنا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں نون لیگ اس کارنامہ میں مکمل شریک جرم تھی۔ اور اس بار مذہبی طبقہ دھرنے کی صورت میں اسلام آباد تک آ پہنچا۔ کئی دنوں تک جاری رہنے والے اس دھرنے کا انجام بھی وہی ہوا جو طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے کے ساتھ ہوا تھا۔ یعنی حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں دیکھائی۔ آخر جب فیض آباد کےمقام پر حا لات شدیدخراب ہوئے تو فوج نے آگے بڑھ کر اس دھرنے کو ختم کرانے میں اپنا رول ادا کیا۔ اور انہیں تحریک لبیک کے جیل سے چھوٹے والے کارکنوں کو پیسے دینے پر بھی شدید رتنقید برداشت کرنی پڑی۔ اس دھرنے سے مولانہ صاب کو کوئی خاص کامیابی تو نہیں ملی لیکن زید حامد کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے اور ساتھ ہی ساتھ مولانہ خادم رضوی کو مذہبی طبقہ میں خوب پزیرائی ملی۔ اپنی بھر پور پزیرائی دیکھتے ہوئے مولانہ رضوی نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا اور الیکشن میں ایک عددی اعتبار سے بڑا وٹ حاصل بھی کر پائے، لیکن افسوس کوئی زیادہ سیٹیں جیت نا پائے، اسکی اصل وجہ نون لیگ اور تحریک انصاف کا کانٹے کا مقابلہ تھا۔ اور زیادہ لوگوں نےمذہبی جماعتوں کو وٹ نہیں ڈالے۔ تحریک لبیک خود تو ہار ہی گئی لیکن تحریک انصاف کے وٹ کم کرنے سے فائدہ نون لیگ اٹھاتی چلی گئی۔ ایک اندازہ کے مطابق کم او بیش دس سے پندرہ تحریک انصاف کی سیٹیں تحریک لبیک کی وجہ سے ہار گئی ۔ باقی جماعتوں کے طرح مولانہ صاحب نے ان الیکشن کو دھاندلی زدہ کہاں اور دھمکی دی وہ پور زور احتجاج کریں گئے۔ لیکن جلد ہی انکو کسی سیانے نے مشورہ دیا آپ کے اس سیاسی دھرنے میں کوئی خاص جان نہیں ہوگئی اور زیادہ تر مذہبی لوگ اس دھرنے میں شرکت کرنے سے کترائے گئے ۔ لحاظ آپ یہ ارادہ ترک کر دیں۔ مولانہ صاب ابھی بیٹھے ہی تھے ہالینڈ میں ایک ملعون نے حضور ﷺ کے خلاف کارٹون بنانے کا مقابلہ شروع کرا دیا۔ اس گھٹیاں حرکت پر ہر مومن مسلمان غصہ میں ہے۔ اور حکومت نے نا صرف احتجاج نوٹ کرایا بلکہ اس مسئلہ کو او ائی سی میں اٹھانے کا بھی وعدہ کیا۔ لیکن اس بار مولانہ نے امت مسلمہ کے لیے جہاد کرنے کا بیڑاہ اٹھایا اور اسلام آباد مارچ کرنے کا اندیہ دے ڈالا۔ مولانہ صاب کا مطالبہ تھا ہالینڈ سے تعلقات ختم کر دیے جائے۔ اور سفیر کو ملک بدر کر دیا جائے ، حکومت نے سفارتی سطح پر بھرپور کوشش کی اور ہالینڈ حکومت حکومت کی کوشش سے یہ کارٹون مقابلہ ختم کردیا گیا ۔ مولانہ صاحب ابھی اسلام آباد پہنچے تھی یہ خبر آئی اب مولانہ صاب کو مجبور اس دھرنے کو ختم کرنا پڑا۔
دھرنوں کی سیاست کوئی نئی سیاست نہیں ہے پاکستان کی تاریخ میں بے نظیر بھٹو ، نواز شریف ، عمران خان اور طاہر القادری بھی یہ شوق پورا کر چکے ہیں ۔ آپ میں سے کئی لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوال جنم لیے رہے ہونگے، درحقیت مولانہ صاب چاہتے کیا ہیں ؟ مولانہ صاحب کو اس وقت سنی بریلوی طبقہ کی سپورٹ حاصل ہے۔ مولانہ صاب سمجھتے ہیں وہ اس وقت پورے عالم اسلام کو لیڈ کر رہے ہیں۔ مولانہ صاب کے مرید ین بھی یہ سمجھتے ہیں مولانہ صاب اس وقت کے عظیم لیڈر ہیں اور اللہ اور اسکے رسولﷺ نے امت مسلمہ کے حق کی خاطر لڑنے کا سہرا مولانہ صاب کے سر پر رکھا ہے۔ پورے عالم اسلام میں کوئی مرد کا بچہ نہیں بچا جو مولانہ صاب کی طرح امریکہ اور اسرائیل جیسی پلید طاقتوں کے ساتھ ٹکرا جائے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے مولانہ صاب کا انجام کیا ہوگا؟ مستقبل کی خبر صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ لیکن باظہری طور پر مولانہ صاب کے مستقبل کا منظر نامہ کچھ یو نظر آرہا ہے ۔ مولانہ صاحب اپنے دھرنے کی تین لائف لائن ختم کر چکے ہیں ، چوتھے دھرنے کی صورت میں حکومت اور فوج ان دھرنوں کے سلسلےکو ایک خاص بلیک ملیگ کی نگاہ سے دیکھے گئی۔ اگر مطالبات مان بھی لیے تو مولانہ صاب کو فوج کی طرح سے سخت تنبہ کی جائے گئی اگلی باری نا آنا اگر آنا تو پھر سنبھل کر آنا۔ دوسرا منظر نامہ یہ ہوگا کہ ہر آئے روز دھرنے کو دیکھ کر مولانہ صاب کے مریدین تعداد میں کم ہوتے چلے جائیں گئے۔ اور مولانہ صاب اپنی سپورٹ کھوتے چلے جائیں گئے ۔ تیسرا منظر نامہ یہ ہوگا مولانہ صاب اور حکومت کی ٹھیک ٹھاک ٹکر ہوگئی اور پکڑ دھکڑ اور شیدید سختی کی جائے گئی جسکے نتجہ میں شاید مولانہ مطالبات تو منوا لائے گئے، لیکن قیمت اتنی بھاری ہوگئی کی قمر ٹوٹ کر رہے جائے گئی اور اگلے دھرنے کی نوبت ہی نہیں آئی گئی۔
مولانہ صاب اس وقت تک انتہائی جارحانہ انداز میں کھیل رہے ہیں اور یہ جارحانہ انداز ان کو شدید نقصان بھی دیے سکتا ہے ۔ مولانہ صاحب نے اگر اپنے رویے میں نرمی نا برتی تو نتائج سنگین نکل سکتے ہیں، شاید پچھلی بار تو افواج پاکستان نے بچ بچا کرا دیا تھا، لیکن اس بار ایسا نا ہو اور نتائج برعکس نکلیں ۔۔۔